واشنگٹن: امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی حال ہی میں عوام کے سامنے لائی گئی اندرونی فائلوں نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ان دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین نے کسی منظم سیکس ٹریفکنگ رنگ کا آپریشن نہیں کیا اور ایجنسی کو اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔
ایف بی آئی کی 2019 سے 2021 کے دوران جیفری ایپسٹین کی تفتیش سے متعلق اندرونی فائلیں حال ہی میں “ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ” کے تحت عوامی کی گئی ہیں۔ ان فائلوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران ایجنسی کو ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا جو یہ ثابت کرے کہ ایپسٹین نے طاقتور مردوں کے لیے لڑکیوں کو سیکس ٹریفکنگ کے ذریعے فراہم کیا۔

فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف جسٹس کی ایک ایجنسی ہے جو ایک وفاقی فوجداری تفتیشی ادارے اور ایک داخلی خفیہ ایجنسی دونوں کے طور پر کام کرتی ہے۔ ایف بی آئی کو وفاقی جرائم کی 200 سے زیادہ اقسام کی خلاف ورزیوں کی تفتیش کا اختیار حاصل ہے۔
ایف بی آئی نے کیا کہا۔
ایف بی آئی نے اپنی رپورٹ میں ایپسٹین کو ایک “لون پریڈیٹر” یعنی اکیلا جنسی مجرم قرار دیا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹین کے خلاف وسیع پیمانے پر چلنے والی ٹریفکنگ رنگ کی تھیوری کو قانونی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔ ایف بی آئی کے مطابق اس کے جرائم ذاتی نوعیت کے تھے اور کسی بڑے نیٹ ورک کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔
ایف بی آئی کے اس نتیجے کے باوجود انہی فائلوں میں کئی ایسے حقائق درج ہیں جو سنگین سوال کھڑے کرتے ہیں۔
تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ 25 سے زیادہ خواتین کو ایپسٹین کی جانب سے ادائیگی کی گئی تھی جنہیں “ماڈلز” کہا جاتا تھا۔
ایپسٹین کے گھروں سے بچوں کی تصاویر برآمد ہوئیں جبکہ اس کے کوئی بچے نہیں تھے۔
اس کے الیکٹرانک آلات سے چائلڈ سیکسول ابیوز میٹیریل بھی ملا۔
اس کے باوجود ان حقائق کو “منظم ٹریفکنگ” کا ثبوت نہیں مانا گیا۔

پرنس اینڈریو اور دیگر بااثر نام۔
- برطانیہ کے پرنس اینڈریو نے تفتیش کے دوران امریکی حکام کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
- کئی متاثرہ خواتین نے الزام لگایا کہ ایپسٹین کے گھروں میں مساج کے دوران دیگر مرد بھی موجود رہتے تھے۔
- اس کے باوجود ایف بی آئی نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ کوئی منظم نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔
ورجینیا گیوفرے کے الزامات کیوں مسترد کیے گئے۔
اہم متاثرہ ورجینیا گیوفرے کا یہ دعویٰ کہ انہیں طاقتور لوگوں کو “لینڈ آو¿ٹ” کیا گیا ایف بی آئی نے مسترد کر دیا۔
ایجنسی کا کہنا تھا کہ دیگر متاثرین نے اس طرح کے تجربات بیان نہیں کیے اس لیے اس دعوے کو قابل اعتماد نہیں سمجھا گیا۔
دنیا بھر میں ردعمل، رپورٹ “شرمناک”۔
جیسے ہی یہ رپورٹ سامنے آئی سوشل میڈیا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔
کئی لوگوں نے اسے “شرمناک”، “انصاف کا مذاق” اور “طاقتور لوگوں کو بچانے کی کوشش” قرار دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بھی ٹریفکنگ نہیں ہے تو پھر ٹریفکنگ کسے کہا جائے گا۔
اے پی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی کے نتائج اور دستاویزات میں درج حقائق کے درمیان واضح فرق ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فائلوں میں موجود معلومات ٹریفکنگ رنگ کے شبہے کو مضبوط کرتی ہیں لیکن تفتیش کو اسی سمت میں آگے نہیں بڑھایا گیا۔