انٹرنیشنل ڈیسک: انٹارکٹیکا کی برفانی چادر کے درمیان ایک ایسا حیرت انگیز قدرتی منظر ہے، جسے دیکھ کر پہلی نظر میں لگتا ہے جیسے برف کے اندر سے خون بہ رہا ہو۔ اسے بلڈ فالز (Blood Falls) کہا جاتا ہے۔ یہ آبشار دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔ اس کا گہرا لال رنگ دراصل لوہے سے بھرے انتہائی کھارے پانی (Hypersaline Water) کی وجہ سے بنتا ہے، جو تقریباً 50 لاکھ سالوں سے گلیشیئر کی موٹی برف کے نیچے قید ہے۔
بلڈ فالز کہاں ہے اور اس کا راز
بلڈ فالز انٹارکٹیکا کے سب سے خشک علاقوں میں شمار ہونے والی میکمورڈو ڈرائی ویلیز (McMurdo Dry Valleys) میں واقع ہے۔ یہ آبشار ٹیلر گلیشیئر (Taylor Glacier) سے آہستہ آہستہ بہتے ہوئے لیک بونی میں گرتی ہے۔ چاروں طرف برف کے سفید مناظر میں لال آبشار انتہائی دلکش دکھائی دیتا ہے۔ اس کا پتہ سب سے پہلے 1911 میں زمینیات کے ماہر تھامس گریفِتھ ٹیلر نے لگایا تھا۔ درجہ حرارت -19°C تک گرنے کے باوجود یہ آبشار بہتی رہتی ہے، جو سائنسدانوں کے لیے ایک صدی سے بھی بڑا راز بنی ہوئی ہے۔

لال رنگ کی وجہ کیا ہے
اس آبشار کا لال رنگ خون یا لال سیوی کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس کی وجہ ایک قدیم سب-گلیشیئل جھیل ہے، جو لاکھوں سال پہلے سمندر کے پانی سے بنی تھی اور گلیشیئر کے بڑھنے کے سبب آکسیجن اور سورج کی روشنی سے کٹ گئی۔
* جھیل کے پانی میں لوہے کے آئنز (Iron ions) کی مقدار بہت زیادہ ہے۔
* پانی کا نمک سمندری پانی کی نسبت دوگنا ہے، اس لیے یہ انتہائی سردی اور دباو¿ میں بھی جم نہیں پاتا۔
* جب یہ کھارا پانی گلیشیئر کی دراڑ سے باہر آتا ہے اور ٹھنڈی ہوا سے ملتا ہے، تو لوہے کی آکسیڈائزیشن ہوتی ہے اور پانی فیریک آکسائیڈ (Rust) میں بدل کر لال رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اس وجہ سے آبشار بالکل تازہ خون بہتے دکھائی دیتا ہے۔
سائنسدانوں نے بھی کی تصدیق
شروع میں سائنسدانوں کو لگا کہ یہ لال رنگ لال سیوی کی وجہ سے ہے۔ لیکن 21ویں صدی میں کی گئی تحقیق، خاص طور پر 2017 میں کی گئی ڈرلنگ اسٹڈی نے یہ ثابت کر دیا کہ لال رنگ کیمیا کی وجہ سے ہے، حیاتیاتی وجہ نہیں۔

زندگی اور خلا کی نشانی
بلڈ فالز کو سائنسدان پانی کا ٹائم کیپسول مانتے ہیں۔ اس میں آکسیجن سے خالی اندھیرے میں پھیلنے والے خوردبینی حیاتیات پائے جاتے ہیں۔ اس سے سائنسدانوں کو برفانی سیاروں اور چاندوں، جیسے یوروپا (Europa) پر زندگی کے امکانات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

موسم کی تبدیلی اور مستقبل کی فکر
بلڈ فالز کا بہاو موسم کے مطابق بدلتا ہے۔ گرم مہینوں میں یہ اور تیز بہتا ہے۔ یہ علاقہ اتنا دشوار ہے کہ یہاں پہنچنا صرف ہیلی کاپٹر سے ممکن ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے انٹارکٹیکا میں برف کے پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ سائنسدان اس تبدیلی کی نگرانی کر رہے ہیں، کیونکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت آبشار کے بہاو اور ممکنہ چھپے رازوں کو متاثر کر سکتا ہے۔