انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش نے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کی پارٹی عوامی لیگ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعدہندوستان کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ طارق رحمان کے مشیر ہمایوں کبیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کو باہمی فائدے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو ملنے والے زبردست عوامی مینڈیٹ کے بعد بدلی ہوئی سیاسی حقیقت کو قبول کرنا اب ہندوستان کی ذمہ داری ہے۔
کبیر نے کہا، شیخ حسینہ اور عوامی لیگ آج کے بنگلہ دیش میں موجود نہیں ہیں۔ عوام نے واضح فیصلہ بی این پی کے حق میں دیا ہے۔ تبدیلی ہندوستان کی سوچ میں آنی چاہئے۔ انہوں نے اگست 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ہندوستان چلی جانے والی حسینہ کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان پر 1,500 سے زیادہ لوگوں کی موت کا الزام لگایا اور ہندوستان سے درخواست کی کہ وہ بنگلہ دیش کے استحکام کے خلاف اپنی زمین استعمال نہ ہونے دے۔ انہوں نے کہا، ہندوستان ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جس سے بنگلہ دیش کی خودمختاری کمزور ہو۔ ایک بار یہ مسئلہ حل ہو جائے، تو معمول کا سفارتی تعاون دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے 26 نومبر 2025 کو کہا تھا کہ وہ حسینہ کی حوالگی کے بارے میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ ہندوستان امن، جمہوریت اور استحکام کے لئے پرعزم ہے۔ کبیر نے نریندر مودی اور طارق رحمان کے درمیان ہونے والی فون بات چیت کا بھی ذکر کیا، جس میں مودی نے رحمان کو ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال گھریلو ترجیحات پہلے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں ہندوستان ، چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت پر کبیر نے کہا کہ نئی حکومت توازن کی پالیسی اپنائے گی اور قومی مفادات کو سب سے اوپر رکھے گی۔ اقلیتوں، خاص طور پر ہندوؤں پر تشدد کے الزامات کو انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حالات اتنے خراب نہیں ہیں جتنا کبھی کبھار دکھایا جاتا ہے۔ بی این پی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ 17 فروری کو ہونے والی طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت علاقائی رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔