واشنگٹن: امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری عسکری تصادم چوتھے دن میں داخل ہو چکا ہے اور حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتے تنازع کے درمیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع امریکی سفارتخانہ پر گزشتہ رات ڈرون حملہ ہوا، جس کے بعد سفارتخانہ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان 15 ممالک میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔
ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ
سعودی عرب کے محکمہ دفاع کے مطابق پیر کی رات دو ڈرون امریکی سفارتخانے کے کمپاونڈ سے ٹکرائے۔ اس حملے میں محدود سطح پر آگ لگی اور عمارت کو کچھ جسمانی نقصان پہنچا۔ ریاض کے سفارتی علاقے سے کالا دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جہاں کئی غیر ملکی سفارتخانے واقع ہیں۔ تاہم اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔ امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ سفارتخانہ اگلی اطلاع تک بند رہے گا۔ جاری حفاظتی انتباہ میں امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ “موجودہ مقام پر محفوظ رہیں” اور سفارتخانے کے کمپاونڈ کے قریب نہ جائیں۔
15 ممالک سے امریکیوں کو نکلنے کی ہدایت
امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے 15 ممالک میں مقیم امریکی شہریوں سے فوری طور پر محفوظ تجارتی پروازوں کے ذریعے خطہ چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ محکمہ خارجہ کی معاون سیکرٹری مورا نامدار نے کہا کہ “حفاظتی خطرات کو دیکھتے ہوئے امریکی شہری جلد از جلد دستیاب تجارتی ذرائع سے روانہ ہوں۔
جن ممالک کے لیے یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے، وہ ہیں:
بحرین
مصر
ایران
عراق
اسرائیل
ویسٹ بینک اور غزہ
اردن
کویت
لبنان
عمان
قطر
سعودی عرب
شام
متحدہ عرب امارات
یمن
ہورمز سمندری گزرگاہ بند، ایران کی دھمکی
تناو مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ ایران نے انتباہ دیا ہے کہ ہورمز سمندری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو “آگ کے حوالے کر دیا جائے گا۔” یہ اہم سمندری راستہ فی الحال بند بتایا جا رہا ہے۔ ہورمز سمندری گزرگاہ دنیا کی تیل کی فراہمی کے راستوں میں سب سے اہم ہے۔ اس کے بند رہنے سے عالمی توانائی کی منڈی پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔