انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی مشترکہ امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں موت کے بعد پاکستان میں بوال مچ گیا۔ کراچی شہر میں واقع امریکی قونصل خانے پر سیکڑوں مظاہرین نے دھاوا بول دیا اور توڑ پھوڑ کے بعد اسے آگ لگا دی۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس افسر محمد جواد کے مطابق، جھڑپوں کے دوران کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے اور کئی زخمی ہوئے۔ حالات کئی گھنٹوں تک کشیدہ رہے۔ ایران حکومت نے خامنہ ای کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے 40 دن کے قومی سوگ اور 7 دن کی چھٹی کا اعلان کیا۔
ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون داغے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق درجنوں میزائل داغے گئے جن میں سے کئی کو روک لیا گیا۔ تل ابیب میں ایک خاتون کی موت کی تصدیق ہوئی۔ متحدہ عرب امارات کے دبئی میں بھی فضائی دفاعی نظام فعال رہا اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ٹرمپ کی سخت وارننگ۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کو سخت وارننگ دی۔ اگر ایران نے پہلے سے زیادہ زور دار حملہ کیا تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ٹرمپ نے اسے ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا موقع قرار دیا۔
اسرائیل کا بڑا آپریشن۔
اسرائیل کے فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے کہا کہ سیکڑوں اہداف پر حملہ کیا گیا۔ حملوں میں ایران کے کئی اعلیٰ فوجی افسران مارے گئے جن میں فوج کے سربراہ جنرل عبدالرحیم موسوی اور وزیر دفاع عزیز ناصرزادہ شامل بتائے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب اور اردن نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ آبنائے ہرمز پر خطرے کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاو¿ کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران نے سیکڑوں شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگایا۔