گوہاٹی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز آسام کے ضلع ڈبروگڑھ کے علاقے موران میں شمال مشرق کی پہلی ہائی وے پر مبنی ’ایمرجنسی لینڈنگ فیسیلٹی‘(ای ایل ایف) کا افتتاح کیا، جوہندوستان کے دفاعی ڈھانچے اور آپریشنل تیاریوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔انڈین ایئر فورس (آئی اے ایف) کے C-130J ہرکیولس طیارے کے ذریعے نئے تیار کردہ ہنگامی رن وے پر پہنچنے پر ہیمنت بسو سرما، مرکزی وزیر سربانند سونووال اور دیگر سینئر رہنماوں نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ سرما نے وزیر اعظم کو آسامی’گاموچھا‘ اور ’جاپی‘ پیش کی، جبکہ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے انہیں ایک یادگاری اعزاز سے نوازا۔
اس تقریب میں انڈین ایئر فورس کے جنگی طیاروں بشمول سکھوئی 30 MKI، رافیل لڑاکا طیاروں اور مقامی طور پر تیار کردہ ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر (اے ایل ایچ) کا شاندار فلائی پاسٹ پیش کیا گیا۔ سکھوئی 30 MKI اور رافیل دونوں طیارے ہائی وے پر مبنی اس پٹی پر کامیابی سے لینڈ ہوئے، جس پر وہاں موجود ہجوم نے زبردست نعرے بازی کی۔ موران کی یہ سہولت، جو شمال مشرق میں اپنی نوعیت کی پہلی سہولت ہے، توقع ہے کہ خاص طور پر تزویراتی طور پر حساس خطوں میں انڈین ایئر فورس کے آپریشنل لچیلے پن میں اضافہ کرے گی۔
افتتاح کے بعد وزیر اعظم گوہاٹی کے لیے روانہ ہو گئے، جہاں وہ دریائے برہم پترا پر گوہاٹی اور نارتھ گوہاٹی کو ملانے والے ایک نئے پل کا افتتاح کریں گے۔ وہ شہر میں آسام کے پہلے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کیمپس اور نیشنل ڈیٹا سینٹر کا بھی افتتاح کریں گے۔توقع ہے کہ دن کے آخری حصے میں، وزیر اعظم مودی گوہاٹی کے خاناپارہ میں ویٹرنری کالج گراونڈ میں بی جے پی کے بوتھ لیول کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کریں گے۔