National News

اب ملے گا ایچ آئی وی کا پکا علاج! سائنسدانوں نے امیون سیلز سے ختم کیا وائرس

اب ملے گا ایچ آئی وی کا پکا علاج! سائنسدانوں نے امیون سیلز سے ختم کیا وائرس

انٹرنیشنل ڈیسک- دنیا بھر میں لاعلاج مانی جانے والی بیماری ایچ آئی وی (ایڈز) کے خاتمے کی طرف سائنسدانوں کو ایک بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ایک تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے 'جین ایڈیٹنگ' تکنیک کا استعمال کرکے لیب میں انسانی امیون سیلز سے ایچ آئی وی وائرس کو کامیابی کے ساتھ ہٹا دیا ہے۔سائنسدانوں نے نوبل انعام یافتہ CRISPR-Cas9 تکنیک (جسے 'مالیکیولر قینچی' کہا جاتا ہے) کا استعمال کیا ہے۔ یہ تکنیک DNA کے اس خاص حصے کو کاٹ کر الگ کر سکتی ہے جہاں وائرس چھپا ہوتا ہے۔ HIV وائرس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ جسم کے امیون سیلز کے DNA میں جا کر بیٹھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے عام دوائیں اسے نہیں تلاش کر پاتیں۔ لیکن اس نئے طریقہ کار کے ذریعے سائنسدانوں نے سیلز کے اندر وائرس کے نشانات تک مٹا دیے ہیں۔

اب تک دستیاب دوائیں جسم میں وائرس کی تعداد کو صرف کنٹرول کرتی ہیں، لیکن اسے ختم نہیں کر سکتیں۔ یہ نئی تحقیق مستقبل میں HIV کو 'جڑ سے ختم' کرنے کی امید پیدا کرتی ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں مریض اس مہلک بیماری سے نجات حاصل کر سکیں گے۔حالانکہ یہ تجربہ ابھی لیب میں کیا گیا ہے، لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ مستقل علاج کی طرف پہلا بڑا قدم ہے۔ اب اس تکنیک کو انسانوں پر کلینیکل ٹرائل کے لیے تیار کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد ایک ایسا علاج تیار کرنا ہے جو مریضوں کو روزانہ دوائیں لینے کی ضرورت کو ختم کر سکے اور ا±ن کے جسم کو مکمل طور پر وائرس سے آزاد بنا سکے۔



Comments


Scroll to Top