اسلام آباد: پاکستان میں جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے پاکستان کی 26ویں آئینی ترمیم پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم عدلیہ کی آزادی، فوجی احتساب اور قانون کی بالادستی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس ترمیم کے ذریعے پاکستان میں سیاسی مداخلت بڑھنے کا خدشہ ہے اور اس سے عدلیہ انتظامیہ کے دباو میں فیصلے کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
وولکر ترک کی سخت تنبیہ
ترک نے واضح طور پر کہا کہ ان تبدیلیوں سے عدلیہ پر سیاسی اثرات میں اضافہ ہوگا۔ ججوں پر سیاسی دباو¿ نہیں ہونا چاہیے، ورنہ قانون کے تحت انصاف اور برابری کو یقینی بنانا مشکل ہو جائے گا۔
کیا ہے 26ویں آئینی ترمیم؟
13 نومبر کو پاکستان نے 26ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت (FCC) قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تبدیلی کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو محدود کر کے اسے صرف دیوانی اور فوجداری معاملات تک محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی برادری کیوں فکر مند ہے؟
- سپریم کورٹ کا کردار کمزور ہو سکتا ہے۔
- فوج اور حکومت کا احتساب متاثر ہوگا۔
- پاکستان کی جمہوریت اور انسانی حقوق دونوں پر منفی اثر پڑے گا۔
- اقوام متحدہ کے اس بیان کے بعد پاکستان کی یہ نئی ترمیم عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔