National News

مڈل ایسٹ پھرسُلگا! اسرائیل نے جنوبی شام کو بنایا نشانہ، 13 افراد ہلاک

مڈل ایسٹ پھرسُلگا! اسرائیل نے جنوبی شام کو بنایا نشانہ، 13 افراد ہلاک

انٹرنیشنل ڈیسک: اسرائیلی فوج نے جنوبی شام کے ایک گاوں میں چھاپہ مارا اور اس دوران مقامی باشندوں کے مزاحمت کرنے پر فائرنگ کی، جس میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی میڈیا اور حکام نے یہ اطلاع دی۔ یہ واقعہ ایسے وقت ہوا جب اسرائیل کئی محاذوں پر تنازع میں ہے اور غزہ میں غیر مستحکم جنگ بندی جاری ہے۔ شام کے وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ ’ایک بھیانک قتلِ عام‘ تھا اور ہلاک ہونے والوں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ کے مطابق، اسرائیلی فوج بیت جن گاوں میں داخل ہو کر مقامی لوگوں کو حراست میں لینے کی کوشش کر رہی تھی اور مزاحمت کے بعد بھاری فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے مطابق، واقعہ کے بعد کئی خاندانوں نے علاقے کو چھوڑ دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جمعہ کو کہا کہ اسے خفیہ معلومات ملنے کے بعد بیت جن میں سرگرم ایک اسلامی گروپ کے مشتبہ افراد کو پکڑنے کے لیے ایک کارروائی چلائی گئی، جو اسرائیلی شہریوں پر حملہ کرنے کے ارادے رکھتے تھے۔ اس نے بتایا کہ چھاپے کے دوران کئی شدت پسندوں نے اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کی، جس میں آدھا درجن فوجی زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کے فوجیوں نے فائرنگ کا جواب دیا اور اس دوران ہوائی حملوں کی مدد لی گئی۔ اس نے بتایا کہ کارروائی ختم ہو گئی ہے، تمام مشتبہ افراد پکڑے جا چکے ہیں اور کئی شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
تاہم، کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ممکنہ سلامتی معاہدے پر دونوں فریق بات چیت کر رہے ہیں۔ شامی حکام نے اسرائیلی دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ شامی حکومت نے جمعہ کو بین الاقوامی برادری سے اسرائیلی دراندازی کو روکنے کے لیے ’فوری کارروائی‘ کرنے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ گاوں میں ایک مقامی اہلکار، ولید اکاشا نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے۔



Comments


Scroll to Top